لینس ڈاؤن پل (برج) کی تاریخ پر ایک نظر

لینس ڈاؤن برج 130 سال قبل”دریائے سندھ” پر بنایا گیا لوہے کا عالیشان پُل ہے۔ انگریزوں نے اس برج کو سندھ کے دو تاریخی شہر سکھر اور روہڑی کو ملانے کے لئے تعمیر کیا تھا۔ اپنی تعمیر کے وقت یہ دنیا کا سب سے لمبا ”معلق آہنی پُل” تھا۔ لیکن لوہے کے اس پل کی خاص بات یے ہے کہ اس میں کوئی پلر  تعمیر نہیں کیا گیاتھا ۔

دریاء سندھ پر بنے ھوئے اس عظیم الشان  لینس ڈائون برج پر کام کا آغاز سن 1887 میں  ھوا  دو سال تک  اس پر کام چلتا رھا اور یون 25 مارچ 1889 پر  یے پل پایہ تکمیل کو پہنچا اوراس  پل کا نام اس وقت کے وائسراء ھند  لارڈ  لنسڈائون کے نام منسوب کر دیا گیا۔

یہ پل تقریباً 900 فٹ طویل ہے جس کی تعمیر پر 40 لاکھ روپے خرچہ آیا ااور اس پل پر کام کرتے ھوئے 6 انسانی اندگیاں بھی ضایع ھوئیں تھیں۔

لینس ڈائون برج  کا ڈھانچہ 3300 ٹن وزنی ہے۔ جو کہ لندن سے بن کہ آیا تھا جسے ”الیگزینڈر میڈوز” نامی انجینیئر نے ڈیزائن کیا تھا۔

مئی 1962ء میں ایوب پل تعمیر ہوا تو اس پل کو ٹرینوں کے لیے بند کر دیا گیا اور ریلوے ٹریفک نئے پل پر منتقل کر دیا گیا۔ اب یہ پل صرف گاڑیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اس پل سے متعلق ایک نہایت مزیدار قصہ آپ کو سناتا ہوں۔ سِندھ میں خوشی کی ہر تقریب کا آغاز اور اِختتام مشہور لوک گیت ”ہو جمالو” پر ہوتا ہے۔ اس گیت کی تخلیق کا سبب بھی سکھر کا یہ لینس ڈاؤن پُل ہے۔

۔1889میں جب ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریائے سندھ پر لوہے کا یہ پُل تعمیر ہو چُکا تب ریلوے کا کوئی بھی ڈرائیور اس پل پر ریل گاڑی چلانے کو آمادہ نہیں ہوا کیونکہ یہ پُل بغیر کسی ”کھمبے” یا ستون کے تھا۔ اس معاملے کا حل انگریز انتظامیہ نے ایسے نکالا کہ سکھر جیل میں قید سزائے موت کے قیدیوں کو ٹرین چلانے کی تربیت دی جائے اور ان سے ٹرین چلوائی جائے۔ اور سکھر جیل کے ایک قیدی ”جمالے” کے ساتھ یہ معاہدہ کیا گیا کہ وہ اس پل پر سے ریل گاڑی چلا کر جائے گا تو اسکی سزا معاف کر دی جائے گی۔

پُل کے ٹرائل کی تقریب ہوئی اور جمالا ریل گاڑی کو پُل پر سے کامیابی سے گزار کر، سکھر سے روہڑی کی طرف لے گیا۔ اسکی سزا معاف کر دی گئی۔ بڑا میلا اور جشن لگایا گیا اور اس جشن میں جمالے کی بیوی نے یہ گیت گایا

ﮨﻮ ﻣﻨﮭﻨﺠﻮ ﮐﮭﭩﯽ ﺍٓﯾﻮ ﺧﯿﺮ ﺳﺎﻥ، ﮨﻮ ﺟﻤﺎﻟﻮ۔ ۔ ۔

Pin It on Pinterest